ابنا: انہوں نے کہا کہ يہ ممالک مختلف منصوبوں کے تحت شام ميں مداخلت کي کوشش کر رہے ہيں جس کي وجہ سے شام کے حالات بہت پيچيدہ ہو گئےـانہوں نے تہران ميں شام کي حکومت اور مخالفين کے اجلاس کے تعلق سے ايران کي تجويز کے بارے ميں کہا کہ ايران نے تمام فريقوں کے درميان مذاکرات کرانے کے لئے اپنے تمام وسائل کا استعمال کيا ہے ليکن کچھ ممالک اس عمل ميں رخنہ اندازي کر رہے ہيں جو قانون کي کھلي خلاف ورزي ہےـوزارت خارجہ کے ترجمان نے عوام کے مطالبات کے سلسلے میں حکومت دمشق کے اقدامات کو مثبت و تعميري قرار ديا اور کہا کہ دہشت گردي اور بدامني ميں شدت آنے سے شام اور علاقے کے عوام کو کوئي فائدہ نہيں پہنچے گاـ لہذا جلد از جلد مذاکرات کے لئے سازگار حالات فراہم کرنے کي ضرورت ہے ـ
......
/169